گھر کب آو گے؟؟

Total
6
Shares

گھر کب آو گے؟؟

خالد نجیب خان

گزشتہ دنوں جب وزیر خزانہ نے اسمبلی میں وفاقی بجٹ پیش کیا تو چند روز بعدسابق وفاقی وزیر برائے خزانہ اور مفرور اسحاق ڈار کی ایک وڈیو سوشل میڈیا پر دیکھنے کو ملی جس میں وہ و ضاحت کر رہے تھے کہ پیش کئے گئے بجٹ میں فلاں فلاں اعداد وشمارغلط بیان کئے گئے ہیں۔اپنی اس ویڈیو تقریر میں انہوں نے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ اعدادوشمار کی یہ غلطی ”کلیریکل مسٹیک“ بھی ہوسکتی ہے مگر آٹھ دس منٹ طویل اس ویڈیو میں انہوں کہیں بھی یہ نہیں کہا کہ ان پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔ گزشتہ دنوں جب یہ خبر سامنے آئی کہ اسحاق ڈار کی حوالگی کے حوالے سے برطانوی حکومت سے ایم او یو پر دستخط ہو چکے ہیں تو کوئی حیرت نہیں ہوئی مگران کے حامیوں کے حوصلے یقینا پست ہوئے۔ خبرمیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ ایم او یو خالصتاً اسحاق ڈار کے حوالے سے ہی ہے۔اس سے کسی اور مجرم یا ملزم کی صحت پر کوئی اثر پڑنے والا نہیں ہے اور انہیں پاکستان لانے پر اٹھنے والے تمام تر اخراجات بھی پاکستان کو ہی برداشت کرنا پڑیں گے۔پاکستان لانے سے قبل اسحاق ڈار کو برطانوی مجسٹریٹ کے رو برو بھی پیش ہونے کا موقع دیا جائے گا جہاں وہ اپنے دفاع میں دلائل اور ثبوت پیش کریں گے۔ ان کے دلائل اگر موثر ثابت ہوئے تو پھر پاکستان کے اخراجات اسی طرح بچ جائیں گے جس طرح اس طالبعلم کے والدین کے بچ جاتے ہیں جو امتحان میں فیل ہو جاتا ہے اور اسے نئے سال کےلئے کتابیں خریدنا نہیں پڑتیں۔ واضح رہے کہ اسحاق ڈار برطانیہ میں سیاسی پناہ کے حصول کےلئے پہلے ہی درخواست دے چکے ہیں۔ان کی یہ درخواست برطانوی اداروں کے زیر غور ہے۔ اس حوالے سے وہ اب تک دو انٹرویو بھی دے چکے ہیں۔ابھی مزید کتنے ادارے اور افسران نے مزید ان کے انٹرویو کرنا ہیں، وثوق سے نہیں کہا جاسکتا مگر یہ کنفرم ہے کہ اگر پاکستان کو انہیں واپس لانے پر اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں تو پھر تمام انٹرویوز میں کامیابی کے بعد بھی وہ ناکام ہی قرار پائیں گے۔ دوسری طرف پاکستان میں بے نظیر اِنکم سپورٹ پروگرام کی سابق چیئر پرسن ماروی میمن صاحبہ بڑی شدت سے اسحاق ڈار کی واپسی کی منتظر ہیں ۔ ایک اخبار نویس سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بڑے وثوق سے کہا ہے کہ وہ بہت جلد پاکستان میں ہوں گے۔ ماروی میمن ن لیگ کے دور حکومت میں بے نظیر اِنکم سپورٹ پروگرام کی چیئر پرسن رہی ہیں ۔ انہیں یہ عہدہ مریم نواز پر اعتراضات لگنے کے بعد دیا گیا تھا۔ وہ سابق وفاقی وزیرنثار میمن کی بیٹی ہیں اورجس شدت سے اسحاق ڈار کی منتظر ہیں، اِس کا احساس ہر کسی کو نہیں ہو سکتا۔یہ وہی جان سکتا ہے جو یہ سمجھتا ہو کہ جب کوئی یہ کہتا ہے کہ سانوں اک پل چین ناں آوے سجناں تیرے بنا کیوں اور کب کہتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You May Also Like

گدھے کم نہیں ہوئے!

  گدھے کم نہیں ہوئے! خالد نجیب خان اب تک ہم یہی سمجھتے رہے تھے کہ پاکستان میں صرف دو ہی شماریاں ہوتی ہیں ۔مردم شماری میں مردوں کو یعنی…
View Post

معافی نہیں انصاف ۔۔۔

معافی نہیں انصاف ۔۔۔ چند سال پہلے ساحر علی بگا  نے کسی میوزیکل تقریب میں ایک دُعایا کلام پڑھا عدل کریں نا انصاف کریں   بس معاف کریں تو مولا بس معاف…
View Post

ٹرمپ کا یو ٹرن

ٹرمپ کا یو ٹرن دنیا عارضی طور پر بڑی تباہی سے بچ گئی   خالد نجیب خان ایران نے گزشتہ دنوں امریکہ کا جاسوس طیارہ اپنی فضائی حدود کی خلاف…
View Post

تو مودی پر تنقید نہ کر۔۔۔

تو مودی پر تنقید نہ کر۔۔۔   نریندر مودی کو ہمارے ہاں بعض لوگ کوءی اہمیت نہیں دیتے ہیں۔بلکہ بعض توایک معمولی شخصیت کا درجہ بھی نہیں دیتے۔ایک صاحب تو…
View Post