گدھے کم نہیں ہوئے!

Total
0
Shares

 

گدھے کم نہیں ہوئے!

خالد نجیب خان

اب تک ہم یہی سمجھتے رہے تھے کہ پاکستان میں صرف دو ہی شماریاں ہوتی ہیں ۔مردم شماری میں مردوں کو یعنی انسانوں کو گنتے ہیں اور خانہ شماری میں گھروں کا شمار کیا جاتا ہے مگر آج کے اخبار میں شائع ہونے والی خبر نے حیران کردیا ہے کہ ہمارے ملک میں گدھا شماری بھی ہوتی ہے۔بلکہ گھوڑا اور مویشی شماری بھی ۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ اقتصادی سروے رپورٹ 2018-19کے مطا بق ملک میں گدھوں کی تعداد میں ایک لاکھ کا اضافہ ہوگیا ہے ۔اقتصادی سروے کے مطابق گدھوں کی تعداد 53 لاکھ سے بڑھ کر 54 لاکھ ہوگئی ہے۔ گویا اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ملک میں انسانوں کی آبادی بائیس کروڑ جبکہ گدھوں کی آبادی 54 لاکھ ہے ۔ان کا تناسب دیکھا جائے تو ہر چالیس انسانوں کے لئے ایک گدھا ہے۔ 54 لاکھ میں سے گدھے کتنے ہیں اور گدھے کے بچے کتنے ہیں یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے نہ یہ بتایا گیا ہے کہ گدھیاں کتنی ہیں ۔ گویا سروے کرنے والوں کے نزدیک گدھے کےحلیئے کی حامل تما م مخلوقات ہی گدھوں میں شمار ہوتی ہیں اسی سروے میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بھینسوں کی تعداد میں ایک سال میں 12لاکھ کا اضافہ ہوا ہے۔ بھینسوں کی مجموعی تعداد 3کروڑ 88 لاکھ سے بڑھ کر 4 کروڑ ہوگئی ہے ۔بھیڑوں کی تعداد میں 4 لاکھ کا اضافہ ہوگیا ہے۔ بھیڑوں کی تعداد3کروڑ5لاکھ سے بڑھ 3 کروڑ9 لاکھ ہوگئی ہے۔ بکریوں

کی تعداد میں20لاکھ کا اضافہ ہو گیا ہے۔ بکریوں کی تعداد 7 کروڑ 41 لاکھ سے بڑھ کر 7 کروڑ 61 لاکھ ہوگئی ہے۔ گھوڑوں اونٹوں اور خچروں کی تعداد میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ گھوڑوں کی تعداد 4 لاکھ اور خچروں کی تعداد دو لاکھ برقرار ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں اور بھی کئی طرح کی شماریاں ہوتی رہتی ہیں مگر ہمیں کانوں کان خبر نہیں ہوپاتی۔اس کا واضح ثبوت یہی گدھا گھوڑا اور دیگر مویشی شماری ہے۔ لگتا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے حقیقت میں کٹوں، بکریوں ،انڈوں اور مرغیوں وغیرہ پر فوکس کیا ہوا ہے اسی لئے ان کی آبادی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے مگر گھوڑوں اور خچروں کی آبادی میں اضافہ نہ ہونا بھی باعث تشویش ہے۔اس طرف توجہ دینے کی بھی اشد ضرورت ہے کیونکہ گھوڑے کی قیمت بہرحال گدھے سے زیادہ ہوتی ہےاور بعض اوقات تو گھوڑے اپنی قیمت خود بھی بڑھا لیتے ہیں۔ہمارے حکمرانوں نے شاید اسی خوف سے اس طرف توجہ نہں دی ہے۔ ہمارے ایک دوست نے نکتہ اٹھایا ہے کہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پاکستان میں مردم شماری ہر دس سال کے بعد کرانا ہوتی ہے مگر اٹھارہ انیس سال بعد بہت ہی بے دلی سے کرائی جاتی ہے جبکہ گدھا اور مویشی شماری ہر سال ہی کرائی جارہی ہے۔ کیونکہ تازہ اعدادو شمار کا موازنہ گزشتہ سال کے اعدادوشمار سے کیا گیا ہے۔آخر موجودہ حکومت کی توجہ مردوزن کی بجائےگدھوں اور گھوڑوں پر کیوں ہے؟ اس سوال کا جواب تو حکومت کرنے والے ہی بتاسکتے ہیں ہم تو یہی کہہ سکتے ہیں لہوریو فکر نہ کروگدھے کم نہیں ہوئے ہیں۔ کیونکہ پاکستان دنیا میں گدھوں کی تعداد کے حوالے سے تیسرا بڑا ملک ہے جب کہ اس فہرست میں ایتھوپیا پہلے اور چین دوسرے نمبر پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You May Also Like

گھر کب آو گے؟؟

گھر کب آو گے؟؟ خالد نجیب خان گزشتہ دنوں جب وزیر خزانہ نے اسمبلی میں وفاقی بجٹ پیش کیا تو چند روز بعدسابق وفاقی وزیر برائے خزانہ اور مفرور اسحاق…
View Post

ٹرمپ کا یو ٹرن

ٹرمپ کا یو ٹرن دنیا عارضی طور پر بڑی تباہی سے بچ گئی   خالد نجیب خان ایران نے گزشتہ دنوں امریکہ کا جاسوس طیارہ اپنی فضائی حدود کی خلاف…
View Post

تو مودی پر تنقید نہ کر۔۔۔

تو مودی پر تنقید نہ کر۔۔۔   نریندر مودی کو ہمارے ہاں بعض لوگ کوءی اہمیت نہیں دیتے ہیں۔بلکہ بعض توایک معمولی شخصیت کا درجہ بھی نہیں دیتے۔ایک صاحب تو…
View Post

معافی نہیں انصاف ۔۔۔

معافی نہیں انصاف ۔۔۔ چند سال پہلے ساحر علی بگا  نے کسی میوزیکل تقریب میں ایک دُعایا کلام پڑھا عدل کریں نا انصاف کریں   بس معاف کریں تو مولا بس معاف…
View Post