ٹرمپ کا یو ٹرن

Total
9
Shares
ٹرمپ کا یو ٹرن
ٹرمپ کا یو ٹرن

ٹرمپ کا یو ٹرن

دنیا عارضی طور پر بڑی تباہی سے بچ گئی

 

خالد نجیب خان

ایران نے گزشتہ دنوں امریکہ کا جاسوس طیارہ اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے کے جرم کی پاداشمیں مار گرایا تو امریکی صدر ٹرمپ نے فوری طور تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران نے یہ اچھا نہیں کیا، اس نے بہت بڑی غلطی کی ہے ۔اِس بیان سے دنیا بھر میں لوگ یہ توقع کررہے تھے کہ صدر ٹرمپ اپنی فوجوں کو ایران پر حملہ کرنے کا حکم دےں گے جبکہ انہوں نے اس کے برعکس کیا۔حتیٰ کہ خود ایران بھی اِس انتظارمیں تھا کہ امریکہ کی طرف سے کسی بھی وقت حملہ ہوسکتا ہے ۔اس کے جنگی طیارے معمول سے زیادہ الرٹ تھے۔امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکہ سائبر حملے کی تیاری تو گزشتہ کئی ہفتوں سے کررہا تھا ،خصوصاًخلیج عمان میں تیل کے ٹینکرزپر حملے کے بعد سے تو اِس حوالے سے خاصی تیزی آچکی تھی ۔وہ ایران کے تین اہم ٹھکانوں پر حملہ کرنے ہی والا تھا ۔ٹرمپ نے جب اپنے آرمی چیف سے پوچھا کہ اِن حملوں میں جانی نقصان کتنا ہوگا تو آرمی چیف نے جواب دیا ؛” لگ بھگ ڈیڑھ سو افراد مارے جاسکتے ہیں“۔اِسکے بعد منصوبہ طے پا گیامگر منصوبے کے پایہ تکمیل کو پہنچنے سے تقریباً دس منٹ قبل ہی صدر ٹرمپ نے ایران پر حملے کا آرڈر کینسل کردیا۔

صدر ٹرمپ کا ایک یو ٹرن دنیا بھر کو ایک بڑی تباہی سے دور لے گیا ہے۔ٹرمپ صاحب خواہ کتنے بھی یو ٹرن لیں انہیں روکنے اور پوچھنے والا کوئی نہیں ہے ۔دراصل امریکہ ایران کا وہ سسٹم تباہ کرنا چاہتا تھا جس کی مدد سے وہ امریکی مفادات کو مسلسل زک پہنچا رہا تھا۔جس میزائل سے امریکی ڈرون کو مار گرایا گیا وہ خالصتاً میڈ ان ایران تھا اور چند روز قبل ہی ایرانی فوج کی اسلحہ کھیپ میں شامل کیا گیا تھا۔ایران کی اس دفاعی کاروائی سے قبل امریکہ ایران کو ایک تر نوالہ ہی سمجھتا رہا تھا مگر اس صورتحال میں اُسے معلوم ہوگیا کہ وہ کتنے پانی میں کھڑا ہے۔جبکہ اس سے کچھ ہی عرصہ قبل صدر ٹرمپ نے ایران پرمزید اقتصادی پابندیاں عائد کرتے ہوئے واضح طور پر کہا تھا کہ جب تک تہران میں موجود مقامی قیادت اپنا ارادہ تبدیل نہیں کرتی ان پر اقتصادی دباو ڈالا جائے گا ۔اس کے جواب میں ایران نے بھی جوہری معاہدے کے تحت کئے گئے وعدوں سے ہٹنے کا اعلان کر دیا تھا۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ”اگر ایرانی ایک مستحکم قوم بننا چاہتی ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں لیکن اگر وہ ایسا سوچتے ہیں کہ اگلے پانچ چھ برس میں جوہری بم بنائیں گے تو وہ ایسا کبھی نہیں کر سکیں گے“۔

حال ہی میں امریکہ نے گزشتہ برس نرم کی گئی پابندیوں میں سے توانائی، شپنگ اور اقتصادی سیکٹر، غیر ملکی سرمایہ کاری اور تیل کی برآمد کو نشانہ بنایا ہے ۔اس صورتحال میں اب امریکی اور کئی دیگر غیر ملکی کمپنیاں ایران کے ساتھ تجارت نہیں کر سکتیں اب اس کا براہ راست اثر ملک کی اس صنعت پر پڑے گا جس کا خام مال بیرون ملک سے آتا تھا۔

گزشتہ روزصدر ٹرمپ نے ایران کی جانب سے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی پالیسیوں کا ذمہ دار خامنہ ای کو قرار دیتے ہوئے  ایران کے خلاف مزید سخت اقتصادی پابندیوں کے حکم نامے پر دستخط کر دیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر پائے گا اس کے لیےامریکا ایران پر دباؤ میں اضافہ کرتا رہے گا۔تاہم ایران کی جانب سے بہتر ردعمل کا مظاہرہ کیا گیا، تو اس کے خلاف پابندیاں فوری طور پر ختم بھی کی جا سکتی ہیں۔

ایران پہلے ہی دنیا کو یہ بتا چکا ہے کہ اگر یورپی ممالک نے اسے امریکی اقتصادی پابندیوں سے بچانے کے لیے کوئی عملی اقدام نہ کیا تو وہ 27 جون کو افزودہ یورینیم کے اپنے ذخیرے سے متعلق معاہدے کی خلاف ورزی کرے گا۔روسی حکومت کے ترجمان نے بھی امریکی پابندیوں کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔

توقع ہے کہ ایران اپنے اس دعوے کو سچ ثابت کرنے کے لئے اس مواد کی پیدوار چار گنا بڑھا سکتا ہے جسے ری ایکٹر فیول اور ایٹمی اسلحہ بنانے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ ایران نے 2015 میں امریکہ، روس، چین، یورپی یونین، فرانس، جرمنی، اور انگلینڈ کے ساتھ اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے ایک معاہدہ کیا تھا جس کے تحت اس نے یورینیم کی افزودگی کو کم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ امریکہ میں ٹرمپ نے اقتدار میں آنے کے بعد امریکہ کو یکطرفہ طور پر اِس معاہدے سے علیحدہ کر تے ہوئے ایران پر دوبارہ اقتصادی پابندیاں عائد کر دیں۔دوسری طرف بعض ذرائع کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے دوبارہ مذاکرات کئے جائیں جن میں ایران اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام اور مشرق وسطیٰ میں اپنی کارروائیاں روکنے کی ضمانت دے۔تجزیہ نگارجوناتھن مارکس کا خیال ہے کہ کچھ لوگوں کو ڈر ہے کہ امریکہ اور ایران جنگ کے دھانے پر ہیں اور اندازوں میں ذرا سی غلطی دونوں ملکوں کو جنگ میں دھکیل سکتی ہے۔ایران کی طرف سے یورینیم کو افزودہ کرنے کی دھمکی پہلے سے کشیدہ صورتحال کو مزید کشیدہ کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکہ وہیں پراپنا رعب اور دبدبہ ڈالتا ہے جہاں یہ سہا جاتا ہو ۔کوئی ایسا ملک جو اُس کا ہم پلہ ہو یا اُس کے رعب میں نہ آتا ہو وہ اس پر رعب ڈالنے کا سوچتا بھی نہیں ہے ۔ بے شک ایران اب اس مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں امریکہ اسے محض دھمکیوں سے مرعوب نہیں کرسکتا۔یہی وجہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران پر حملہ کرنے کے فیصلہ تبدیل کرلیا۔ٹرمپ کایہ تبدیل شدہ فیصلہ بہت اچھا ہے۔ اس طرح کا کوئی فیصلہ اگر ہمارے ہاں کسی حکمران کو کرنا پڑتا تو شایدوہ” یو ٹرن“کے طعنوں کے خوف سے کرہی نہ پاتا۔

امریکی سپہ سالار نے صدر ٹرمپ کو یہ بتایاتھا کہ ایران پر حملہ کرنے کی صورت میں لگ بھگ ڈیڑھ سو افراد ہلاک ہوسکتے ہیں ۔ یقیناً یہ ایک ادھورا سچ تھا جس کا صدر ٹرمپ کو ادراک ہو گیا۔سپہ سالار نے یہ اعداد و شمار کیوں بتائے اس کا جواب آنے والے وقت میں مل ہی جائے گامگر مقام شکر ہے کہ دنیا عارضی طور پر ایک بڑی تباہی سے بچ گئی ہے۔

ادھر یہ خبر بھی آئی ہے کہ امریکی ارکان پارلیمنٹ اور سیاست دانوں نے زور دیا ہے کہ ایران میں نظام کی تبدیلی کے لیے ایرانی اپوزیشن کی تحریک کو سپورٹ کیا جائے۔یہ موقف امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں تہران کے حکومتی نظام کے مخالف ایرانیوں کے ایک بڑے مظاہرے سے خطاب کے دوران سامنے آیا۔مظاہرے میں جلا وطن ایرانیوں، ایرانی قومی کونسل برائے مزاحمت کے حامیوں اور ایرانی اپوزیشن تنظیم مجاہدین خلق کے ارکان نے شرکت کی۔

دوسری طرف صدر ٹرمپ نے شمالی کوریا کے متعلق قومی ہنگامی حالت میں ایک سال کی توسیع کر دی ہے۔ ٹرمپ کے اس فرمان کے بعد شمالی کوریا کے خلاف عائد کی جانے والی پابندیاں مزید ایک سال تک جاری رہیں گی۔ شمالی کوریا کے خلاف قومی ہنگامی حالت کا قانون پہلی بار2008ء میں امریکہ کے اُس وقت کے صدر جارج بش کے دور میں جاری کیا گیا تھا اور ہر سال اس میں توسیع کی جاتی ہے۔ یہ قانون امریکی صدر کو اختیار دیتا ہے کہ وہ شمالی کوریا کے اثاثے منجمد اور ضبط کر سکے۔ ٹرمپ نے شمالی کوریا پر ایٹمی پھیلاو، خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے اور امریکیوں کی جان کو خطرے میں ڈالنے جیسے الزامات عائد کرتے ہوئے ہنگامی حالت کے قانون میں توسیع کی ہے۔ جبکہ ٹرمپ انتظامیہ نے فلسطینی اقتصادیات کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنےکے لیے55 ارب ڈالر کے ایک منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم اس منصوبے کو فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس نے مسترد کر دیا ہے۔

1 comment
Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Sign Up for Our Newsletters

Get notified of the best deals on our WordPress themes.

You May Also Like