معافی نہیں انصاف ۔۔۔

Total
4
Shares
معافی نہیں انصاف ۔۔۔

معافی نہیں انصاف ۔۔۔

چند سال پہلے ساحر علی بگا  نے کسی میوزیکل تقریب میں ایک دُعایا کلام پڑھا

عدل کریں نا انصاف کریں   بس معاف کریں تو مولا بس معاف کریں۔۔۔۔۔

میرا خیال ہے کہ یہ دُعایا کلام کسی کو بھی دھلا دینے کے لیے کافی ہے ۔اسی لیے اُس وقت میں بھی دھل کررہ گیا تھا۔ بگا کا گایا ہوا یہ کلام کس نے لکھا ہے ہمیں اس پر بحث نہیں کرنی ۔ آج مریم نواز کا ایک بیان جو ایک اردو روزنامے میں شاءیع ہوا ہے۔

اُن کے اس بیان پر تبصرہ نہ کرنا بھی غلط ہے ۔کیونکہ دختر سابق وزیراعظم کو زندہ رہنے کےلیے خبروں میں رہنا اُسی طرح ضروری ہے کہ  جیسے مچحلی کےلیے پانی۔

دختر سابق اور نااہل وزیراعظم کا کہنا ہے کہ “نواز شریف کو انصاف دلوا کر رہوں گی، جیل میں ڈالنا ہے تو ڈال دو”

اُن کے نزدیک نواز شریف کو ابھی تک انصاف نہیں ملا۔ہمارے ہاں رجحان یہی ہے کہ  اپنی مرضی سے کالے کو سفید اور سفید کو کالا کرتے چلے جاؑو۔ جب کبھی اُن کے کیے پر جواب طلبی ہو تو شور مچا دو کہ ہمارے ساتھ  زیادتی ہورہی ہے ۔ریاست جب اپنا کردار ادا کرنے پر آتی ہے تو شور مچا دیا جاتا ہے کہ ہم سے انتقام لیا جارہا ہے ۔یہ ایک ساءنٹفک بات ہے کہ انتقام اُسی سے لیا جاتا ہے جس نے زیادتی کی ہوتی ہے۔ یہ اللہ تعالی کا ہی کام ہے کہ وہ خود مجرم کے منہ سے یہ کہلوا دیتا ہے کہ اُس کے ساتھ انصاف کیا جا ؑے۔ پھر جب مکمل انصاف ہوتا ہے اور اُسے سزا ملتی ہے تواندر سے اُس کا ضمیراُسے بتا رہا ہوتا ہے کہ انصاف تو یہی ہے جو عدالت نے کیا ہے مگرلوگوں کو دکھانے کے لیےپھر سے شور مچا دیا جاتا ہے کہ اُن کے ساتھ انصاف نہیں ہوا زیادتی ہویی ہے۔

دختر سابق اور نااہل وزیراعظم کے انصاف اور عدل کے حوالے سے اپنے ہی پیمانے ہیں، ترازوکا پلڑا اُن کے حق میں جھکا ہوا ہو تو اُن کی دانست میں انصاف ہوگیا ہےاور سب کچھ ٹھیک ہوگیا اور اگر پلڑا برابر ہو یا دوسرے فریق کی جانب ہو تواس کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ “انصاف کی دھجیاں اُڑا دی گیی ہیں”

یہ حقیقت ہے کہ میاں نواز شریف جیل کی سختیاں برداشت کرنے کے متحمل کبھی بھی نہیں رہے ہیں ۔اس سب کے باوجود وہ اپنے بچوں کے ہاتھوں اس مقام تک پہنچے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ مریم نوازاپنا مقصد حاصل  کرنے کےلیے اپنے والدین تک کی قربانی دینے کو تیار رہتی ہیں کیونکہ وہ دیکھ چکی ہیں کہ بھٹو نے قربانی دی تو بے نظیر بھٹو بنی مگر وہ ابھی تک یہ نہیں سمجھ پاءی ہیں کہ بھٹو نے قربانی خود دی تھی اُسکی بیٹی نے اپنے باپ کی قربانی نہیں دی تھی۔ اس وقت صورتحال کچھ ایسی ہے کہ سابق اورنااہل وزیراعظم اپنی کوششوں سے اگر ان حالات سے نکلنا  بھی چاہیں تواُن کے بچے ہی اُنہیں پھر وہاں لے آتے ہیں جہاں آگے صرف اندھیرا ہی اندھیرا ہوتا ہے۔

دختر سابق اور نااہل وزیر اعظم کو ہمارا مشورہ ہے کہ اللہ تعالی سے اپنے والد کے لیے عدل یا انصاف کی بجایےمعافی مانگیں اور سکون سے گوشہ نشینی کی زندگی بسر کریں۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بھی اُنہیں مشورہ دیا ہے کہ وہ ماتم کرنے کی بجاءےعدالتی فیصلوں کا احترام کریں۔نجانے کیوں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان یہ بھول جاتی ہیں کہ مریم نواز اپنے ماں باپ بھاءی چچا اور چچا زاد سب کو قربان کردے گی مگر “بےنظیر بن کر اقتدار میں ضرور آیے گی پھر چاہے۔۔۔۔۔۔

 

Khaled Najeeb Khan

(Author at Attornist)

1 comment
Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Sign Up for Our Newsletters

Get notified of the best deals on our WordPress themes.

You May Also Like