تو مودی پر تنقید نہ کر۔۔۔

Total
8
Shares
تو مودی پر تنقید نہ کر۔۔۔
تو مودی پر تنقید نہ کر۔۔۔

تو مودی پر تنقید نہ کر۔۔۔

 

نریندر مودی کو ہمارے ہاں بعض لوگ کوءی اہمیت نہیں دیتے ہیں۔بلکہ بعض توایک معمولی شخصیت کا درجہ بھی نہیں دیتے۔ایک صاحب تو کہہ رہے تھے کہ “مودی کوءی معمولی شخصیت نہیں ہے۔۔۔۔۔    وہ انتہاءی معمولی شخصیت ہے”

یہ اُن صاحب کا خیال ہے ہمارا تو خیال ہے کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے نماءیندہ ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ ہمارے دشمن ملک کے تیسری مرتبہ وزیر اعظم بن گیے ہیں۔ ہمیں اس پر بھی بحث نہیں کرنی ہے کہ تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے کے لیے انہوں نےکتنے مسلمانوں اور کتنے دلتوں کا خون بہایا ہے۔ بھارت میں یہ دونوں قومیں ہندوؑوں کے جوش کو ٹھنڈا کرنے کے کام آتی ہیں۔ ہندوؑوستان میں انگریزوں کے آنے اور قیام پاکستان کے درمیانی عرصے میں مسلمانوں نے ہندوؑوں کے ہاتھوں جو مصیبتیں اور ذلتیں اُٹھاءی ہیں ،آج کی نوجوان نسل کو اُن کا ادراک ہی نہیں ہے۔آج پاکستان میں مسلمان جس شان اورفخر سے زندگی بسر کر رہے ہیں ،قیام پاکستان سے قبل چند بڑے بڑے لوگ ہی اس کے بارے میں سوچ سکتے تھے۔اُن کی اسی سوچ کی وجہ سے ہمیں پاکستان ملا ہے جہاں ہم سب مسلمان ہوتے ہوءے بھی دوسرے مسلمانوں کو مسلمان کی بجاءے کافر کہہ کر خوش ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس ہندوستان کے مسلمان کافروں کے نزدیک ہونے کے باوجود صرف مسلمان ہونے کی سزا بھگت رہے ہیں ۔گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیودیکھنے کو ملی جس میں ایک خاتون کے دونوں ہاتھ اوپر درخت سے باندھے ہوءے تھے اوروحشی ہندو اُسے ڈنڈوں سے بے تحاشا پیٹ رہے تھے۔وہ خاتون بظاہر ایک ہندو خاتون ہی لگ رہی تھی کیونکہ اُس نے گلابی رنگ کی ساڑھی پہن رکھی تھی اور ڈنڈے پڑنے سے وہ اُسی طرح چیخ رہی تھی جیسے کوءی ہندو خاتون اس صورتحال میں چیختی۔بتایا گیا ہے کہ اُس خاتون کا جرم یہ تھآ کہ وہ گاءے کا گوشت لے کرجاتے ہوءے پکڑی گءی تھی۔

بلا مبالغہ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ آج بھارت میں عورت سے زیادہ گاءے محفوظ ہے ۔ عورتوں کے علاوہ وہاں پر تنقید کرنے والے لوگ بھی غیر محفوظ ہیں۔ماضی میں ایسی کءی خبریں موصول ہوچکی ہیں کہ کسی پولیس مین یا فوجی جوان نے اگر کسی ایسی خامی یا زیادتی کی نشاندہی کی جس کا براہ راست اُس سےتعلق ہو تو اُسے فوری طور پر ملازمت سے برطرف کردیا گیا اور پھر منظر سے وہ ہمیشہ کےلءے غاءیب ہو گیا۔حال ہی میں ایک خبر سامنے آءی ہے کہ پولیس کے ایک سابق اہلکار سنجیو بھٹ کو عمر قید کی سزا سناءی گءی ہے جس نے ۲۰۰۲ میں گجرات میں ہونے والے مسلمانوں کے قتل عام کے دوران نریندرا مودی کے کردار پر تنقید کی تھی ۔ واضح رہے کہ اُس وقت نریندرا مودی گجرات کی وزیراعلی تھے اور اُنہوں نے ہندوؑوں سے کہا تھا کہ وہ مسلمانوں پر اپنا غصہ نکال لیں اور گجرات کے ہندوؑوں نے مودی کی ہدایت پر پوری طرح عمل کیا تھآ۔ تو بھاءی مہربانی فرما کر مودی صاحب کو اہمیت ضرور دیں مگر اس طرح کہ سانپ بھی مرجاءے اور آپکی لاٹھی بھی محفوظ رہے۔

1 comment
Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Sign Up for Our Newsletters

Get notified of the best deals on our WordPress themes.

You May Also Like